نئی دہلی، 2؍اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) دہشت گرد فنڈنگ کیس کی تحقیقات کر رہی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی(NIA)کو آخر کار حریت کے بڑے لیڈروں کے خلاف واضح ثبوت ملے ہیں۔بتایا جا رہا ہے کہ ان ثبوتوں کی بنیاد پر اب سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک جیسے قد آورعلیحدگی پسند رہنماؤں پر شکنجہ کسنے کی پوری تیاری کر لی گئی ہے۔اس کیس میں پانچ ملزم ہیں اور گواہوں نے تعزیرات (سی آر پی سی)کی دفعہ 164 کے تحت بیان درج کرائے ہیں جسے عدلیہ نے درست پایا ہے ۔بیانات میں حریت کے اعلی رہنماؤں نے کشمیر میں دہشت گردی اور تشدد پھیلانے کے لئے پاکستان سے فنڈز حاصل کی تھی اس کے علاوہ گرفتارکیے گئے ایک شخص کے گھر چھاپے کے دوران NIA کو کئی ایسے دستاویزات ملے ہیں جو پاکستانی ذرائع سے حریت رہنماؤں تک فنڈ پہنچائے جانے کی پوری کہانی بیان کر تی ہے ۔ خیال رہے کہ عدالت میں ان دستاویزات کی رو سے جموں کشمیر میں علیحدگی پسند مشترکہ قیادت کو بے نقاب کرنے کیلئے کافی ہوں گے ۔ ذرائع کے مطابق حریت کے ایک ٹاپ لیڈر کے قریبی ساتھی سمیت 5 لوگوں کو مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان درج کروانے کے لئے تیار کر لیا گیا ہے ۔ان بیانات سے اس امکان کو مزیدتقویت ملتی ہے کہ حریت کے رہنماؤں نے وادی میں تشدد پھیلانے کے لئے پاکستان سے فنڈز حاصل کئے تھے ۔اس مبینہ عمل میں دہلی میں واقع پاکستان کے سفارت خانے کا بھی اہم کردار سمجھا جاسکتا ہے۔